ہم کتنے آزاد ہیں؟

میں نے پچھلے دو برسوں سے ایک طوطا پال رکھا ہے. جتنا مانوس میں اس سے ہوں اتنا ہی مانوس وہ مجھ سے ہے. میں نے پیار سے اس کا نام آزاد رکھا ہے. آزاد سبز رنگ کا نایاب نسل سے تعلق رکھنے والا طوطا ہے.

اس مخصوص نسل کے طوطے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کو جو بھی بولنا سکھایا جاتا ہے وہ جھٹ سے سیکھ جاتے ہیں اور پھر اپنی طیں طیں کی آوازیں نکالنے کے بجائے وہ انہی جملوں کو دن بھر بولتے ہیں. ان طوطوں کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے اور ان کو یہی جملے پھر سے یاد کرانے پڑتے ہیں.

میرا آزاد تھوڑا سا مختلف ہے. وہ میری طرح موڈی بھی ہے اور اس کو غصہ بھی بہت جلد آتا ہے. زرا زرا سی بات پر وہ مجھے کاٹنے کی کوشش کرتا ہے. جب بھی میں گھر میں داخل ہوتا ہوں تو وہ میں آزاد ہوں کے نعرے بلند کرتا ہے. ایک دن میں نے تنگ آکر غصے میں کہا کہ صرف تمہارا نام آزاد ہے لیکن تمہارے گرد جو یہ گول پنجرہ ہے یہ تمہیں کبھی بھی آزاد ہونے نہیں دے گا.

میرے منہ سے یہ کلمات ابھی نکلے ہی تھے کہ مجھے اندازہ ہوا کہ ہماری کیفیت تو اس سے بھی بدتر ہے. 1947 میں آزادی حاصل کرنے اور ہر سال 14 اگست کو جشن آزادی منانے کے علاوہ اس قوم نے آخر کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے جو ہمیں واقعی ایک آزاد ریاست اور ایک آزاد قوم کہلانے کے لائق بنائے. بے حس اور بد عنوان حکمرانوں کے خلاف بولتے ہماری زبان نہیں تھکتی لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ کیا ہم واقعی آزادی کے قابل ہیں؟ جو قوم جوش و خروش کے ساتھ یوم آزادی منانے کے بعد اگلے دن اسی وطن کے پرچموں کو سڑک پر پھینک دے اور اسی کے اوپر چہل قدمی کرے تو ایسے ہی ایک پرچم پر لکھے الفاظ “جشن آزادی مبارک“ مجھے یہ سوچنے پر قائل کررہے ہیں کہ ہم 67 سال گزرنے کے باوجود بھی دماغی طور پر قید ہیں. ہم آج بھی کسی ایسی سوچ کے غلام ہیں جو ہمیں آزاد ہونے نہیں دیتی.

میں نے اسی افسردگی میں آزاد کو اصلی آزادی دینے کے لئے پنجرہ کھول دیا لیکن وہ نہ اڑا. وہ خاموشی سے سہما ہوا مجھے دیکھتا رہا. اسے بھی اس قوم کی حالت پر افسوس ہے. معذرت ہم تو قوم بھی نہیں… صرف حجوم ہیں… ایسا حجوم جو ایک دوسرے کو مذہب، نسل اور لسانیت پر قتل کرنے پر تلا ہوا ہے.

Published by Wajahat Kazmi

Wajahat Kazmi

International Journalist, Entrepreneur, Analyst, Sports and Technology Fanatic and a Frequent Traveler.